Lecture Listen Lecture Listen
 Part1 Part2

 

صفرکا مہینہ اور بدشگونی

 
صفرقمری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے جس کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف ا س کے ساتھہ بہت سے توہمات اور بدشگونیاں وابستہ کرلی گئی ہیں اوردوسری طرف ان کے خودساختہ حل بھی تلاش کر لئے گئے مثلاًاس مہینے میں شادی نہ کرنا،چنے اُبال کر محلے میں بانٹناتاکہ ہماری بلائیں دوسروں کی طرف چلی جائیں، آٹے کی تین سو پینسٹھہ گولیاں بنا کر تالابوں میں ڈالنا تاکہ بلائیں ٹل جائیں اوررز ق میں ترقی ہو ،تین سو گیارہ یا زیادہ دفعہ سورة مزمل کا پڑھنا،اس مہینے کومردوں پر بھاری سمجھنااوراس کی تیرہ تاریخ کومنحوس سمجھناجس کو تیرہ تیزی بھی کہا جاتاہے۔
ان تمام باتوں کی دین میں کوئی حیثیت نہیںکیونکہ ماہ وسال ،رات اور دن کے آنے جانے سے ترتیب پاتے ہیں جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی :نے فرمایا


وَجَعَلنَا الَّیلَ وَالنَّھَارَاٰ یَتَینِ فََمَحَونَآ اٰ یَةَ الَّیلِ وَجَعَلنَآ اٰ یَةَ النََّھَارِ مُبصِرَةً لِّتَبتَغُوا فَضلاً مِّن  رَّبِّکُم  وَلِتَعلَمُو ا عَدَدَ السِّنِینَ وَالحِسَابَ  
(بنی اسرائیل 12: )


ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے بے نور اوردن کی نشانی کو روشن بنایاتاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔

 
دن کا نکلنا ،سورج کا طلوع وغروب ہونا اوررات کا چھا جانا سب اﷲ کی نشانیوںمیں سے ہے کیونکہ دنوں سے مل کر ہفتے اور ہفتوں سے مہینے اور سال بنتے ہیں ۔ یہی ماہ وسال زمانہ ہیںجس کو برا کہنے سے حدیث ِقدسی میںروکا گیاہے۔

:رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
 

یُوذِینِی ابنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّھرَ وَاَ نَا الدَّھرُ بِیَدِیَ الاَمرُ اُقَلِّبُ اللَّیلَ وَالنَّھَارَ (صحیح بخاری
ابن آدم زمانے کو گالی دے کر مجھے اذیت دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھہ میں ہر کام ہے، میںرات اوردن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں“۔

 
قمری کیلنڈر چاند کی بدلتی ہوئی حالتوں کی وجہ سے معرض وجود میں آتا ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں


یَسئَلُو نَکَ عَنِ الاَھِلَّةِ  قُل  ھِیَ مَوَاقِیتُ لِلنَّاسِ وَالحَجِّ 

    البقرة:189


لوگ آپ سے چاند کے (گھٹنے بڑھنے )بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں اور حج کے لئے اوقات بتانے کا ذریعہ ہے۔

قمری کیلنڈر حقیقت میںایک عالمی کیلنڈر ہے ۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہرانسان کے لئے یہ اہتمام کر دیا ہے کہ وہ آ سانی سے تاریخوں کا تعین کر سکے۔ چاند اللہ کے مقرر کردہ ضابطہ کا پابند ہے اس لئے اس کے گھٹنے بڑھنے سے نہ توکسی کی قسمت پر اثر پڑتا ہے اور نہ ہی کسی خاص مہینے کا چاند نظر آنے سے کسی نحوست کی ابتدا ہوتی ہے اور نہ کسی خوش قسمتی کا آغاز ہوتاہے ۔کیونکہ انسان کی خوش قسمتی اور بد قسمتی کا انحصار سورج، چاند اور ستاروں کی گردش پر نہیں بلکہ انسان کے اپنے عمل پر ہے ۔ان کی تخلیق کا مقصد تو یہ ہے کہ سالوںکا حساب کیا جاسکے اورعبادت کے اوقات معلوم کرنے میں آسانی ہو۔
مہینوں کی تعدادبھی اﷲ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا

اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُو رِعِندَ اللّٰہِ اثنَا عَشَرَ شَھرًا فِی  کِتَا بِ اللّٰہِ یَو مَ خَلَقَ (السَّمٰوٰتِ وَالاَرضَ۔۔۔        (التوبة 36

بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک،اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔۔۔


چنانچہ کیلنڈر قمری ہو، شمسی ہویابکرمی، کہیں محرم اورصفر ہیں توکہیں جنوری اور فروری اور کہیں چیت اور بیساکھ ،نام مختلف ہیں لیکن تعدادبارہ ہی ہے ۔
صفر وہ مہینہ ہے جس میں رسول اللہ نے معمول کی عبادت کے علاوہ نہ کوئی خاص عبادت کی نہ ہمیںاس کا حکم دیا اور نہ ہی کسی خاص بلا سے بچنے کے لئے خبردار کیا ۔ توہمات اورشگون جو اس ماہ سے منسوب کئے گئے ہیںان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
عربوں کے ہاں اس ماہ سے متعلق جو غلط تصورات پائے جاتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عرب حرمت کی وجہ سے تین ماہ، ذوالقعدة، ذوالحجہ اور محرم میںجنگ و جدل سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں لہٰذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اورجنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو انکے گھر خالی رہ جاتے
یوں عربی میں یہ محاورہ صَفَرَ المَکَان (گھر کا خالی ہونا) معروف ہوگیا ۔ صَفر اورصِفر کے معنی ہیں خالی ہونا جیسے ِصفر کا ہندسہ ۔ عربی میں کہتے ہیں ۔ بیت صِفر  مِن المَتَاعِ (گھر سامان سے خالی ہو گیا )۔
( لسان العرب ازابن منظور:ج4،ص- 462 463) 


مشہور محدث اور تاریخ دان سخاوی نے اپنی کتاب ”المشہور فی ا سماءالا یام والشہور“ میں ماہ ِصفر کی یہی وجہِ تسمیہ لکھی ہے۔ عربوں نے جب دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اورگھربرباد یا خالی ہو جاتے ہیں تو انہوںنے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اورگھر وں کی برباد ی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہ کیا ،نہ ہی اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا ، نہ لڑائی جھگڑے اورجنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا د یا ۔ جبکہ نحوست کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے
 

 وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا

 اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا
(بنی اسرئیل 13-14 )

اورہر انسان کا شگون ہم نے اسکے گلے میں لٹکا رکھا ہے اور قیامت کے روز ہم ایک کتاب اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا ۔پڑھ اپنا نامہ اعمال آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی نحوست کا تعلق اسکے اپنے عمل سے ہے جبکہ انسان عموماً یہ سمجھتا ہے کہ نحوست کہیںباہر سے آتی ہے چنانچہ وہ کبھی کسی انسان کو ،کبھی کسی جانور کو ،کبھی کسی عدد کو اور کبھی کسی مہینے کو منحوس قرار دینے لگتا ہے۔عربی میںنحوست کے لئے لفظ طِیَرَة استعمال ہوتاہے جو طَیر سے نکلا ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں ۔
 
عرب چونکہ پرندے کے اڑانے سے فال لیتے تھے اس لیے طائر بدفالی کے لیے استعمال ہونے لگا یعنی برا شگون لینا ۔ اسلام میں کوئی دن ، جگہ یا انسان منحوس نہیں بلکہ دراصل وہ انسان کا اپنا طرزِ عمل، رویہ ، اخلاق اور طریقہ ہوتا ہے جواس کے لئے مختلف آزمائشوں کا سبب بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے

مَآاَصَابَکَ مِن  حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَآ اَصَابَکَ مِن  سَیِّئَةٍ فَمِن  نََّفسِکَ (النساء: 79 )
کوئی بھلائی جو تمھیں پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور کوئی برائی جو تمھیں پہنچے تووہ تمھارے نفس کی طرف سے ہے


ایسا شخص جو برا شگون لیتا رہا اس کے بارے میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا
 
مَن  رَدَّتہُ الطِّیَرَةُ مِن  حَاجَةٍ فَقَد  اَشرَکَ قَالُوا یَارَسُولَ اللَّہِ مَا کَفَّارَةُ ذَلِکَ قَالَ اَن  یَقُولَ اَحَدُھُم  اَللّٰہُمَّ لَا خَیر َاِلاَّ خَیرُکَ وَلَا طَیرَ (اِلاَّ طَیرُکَ وَلاَ اِ لٰہَ غَیرُکَ (مسند احمد 
”جو کسی چیز سے بد فالی پکڑ کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا اُس نے شرک کیا“ (صحابہ کرام نے)پوچھا اے اللہ کے رسول !اس کا کفارہ کیا ہو گا؟ فرمایا :” وہ کہے اے اللہ ! تیری دی ہوئی بھلائی کے سواکوئی بھلائی نہیں اور تیری فال کے سواکوئی فال نہیں اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔


مثال کے طور پر ایک شخص گھر سے نکلا، کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو اس نے اسے منحوس سمجھا اور گھر واپس آگیا۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے مگر حقیقت میںیہ شرک ہے کیونکہ کسی بھی شخص کا نفع یا نقصان بلی کے ہاتھہ میں نہیں ہے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی لا پرواہی کی وجہ سے کوئی کام خراب ہو جاتا ہے اور شیطان ہمیں سُجھاتا ہے کہ یہ ساری خرابی فلاں شخص کی وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ صبح صبح نظرآگیا تو اب سارادن خراب ہی گزرے گا اور کوئی کام درست نہیں ہو گا۔اسی طرح آنکھہ پھڑکنے سے خوف زدہ ہو جانا یاہاتھہ میں کھجلی ہونے سے امید لگا بیٹھنا کہ آج مال ملے گا یا جوتے پر جوتا آگیا توسفر پیش آئے گا۔ رنگوں سے شگون لینا بھی ہمارے معاشرہ میں عام ہے، مثلا سیاہ رنگ نہ پہننا کہ بیمار پڑجائیں گے یا احترام کے منافی ہے کیونکہ خانہ کعبہ کا غلاف کالا ہے ، سبز جوتا نہ پہننا کہ بے ادبی ہو گی کیونکہ آپ کی قبرِ مبارک کے گنبد کا رنگ سبز ہے اس طرح انسان نے خود ساختہ طور پر کچھہ چیزیں اپنے لئے نہ صرف حرام کر لیں بلکہ ان کے ساتھہ قسمت بھی جوڑ دی ۔یہ سب ایسے وسوسے اور توہمات ہیں جن کی حقیقت اس کے سوا کچھہ نہیں کہ شیطان انسان کو شرک میں مبتلا کر کے اس کے اعمال ضائع کرواتا ہے۔ یہ توہمات اور بد شگونیاں انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں، اسکے برعکس اللہ کی ذات پر پختہ ایمان اور توکل انسان کو جرا ت ،بہادری اوراعتماد دیتا ہے، اسے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایسے کسی بھی خیال کو دل سے نکال کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا چاہیئے۔ عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

اَلطِّیَرَةُ شِرک، الطِّیَرَةُ شِرک ، ثَلَاثًا وَمَا مِنَّااِلاَّ وَلَکِنَّ اللّٰہَ یُذ ھِبُہُ (بِِالتَّوَکَّلِِِ (سنن ابی داود
 
” بدشگونی شرک ہے ، بد شگونی شرک ہے“تین بارکہا اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر (اسے وہم ہو جاتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی وجہ سے اسے دور کر دیتا ہے۔

اہل کتاب بھی جب دین کی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے تو اس طرح کے شگون لینے لگے، جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا
 
 اَلَم  تَرَاِلَی الَّذِینَ اُوتُو ا نَصِیبًا مِّنَ الکِتَابِ یُومِنُو نَ بِا لجِبتِ (وَالطَّاغُو تِ... (النساء51
کیا تم نے نہیںدیکھا ان لوگوں کوجنہیںکتاب کاایک حصہ دیاگیا وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں 

جبت بے حقیقت، بے اصل اور بے فائدہ چیز کو کہتے ہیں۔چونکہ شگون کی بھی کوئی اصل بنیاد اور حقیقت نہیں ہوتی اس لئے اسلام میں ایسی تمام چیزیں جو جبت کے تحت آتی ہیں جیسے کہانت، فا ل گیری ، شگون اورتوہمات ،ان سے منع کیا گیا ہے۔کسی چھوٹی سی تکلیف یا طبیعت کی خرابی پردوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اور لوگوں کے ساتھہ باہمی تعلقات خراب ہونے پر اپنی غلطی اور کوتاہی کا جائزہ لینے کے بجائے یہ خیال کرناکہ ضرور کسی نے جادو کر دیا ہے یا اس قسم کے دیگر توہمات رکھنا جو پیار و محبت کے رشتوں کو ختم کر دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے انسان کی توجہ اپنے عمل کی درستی اور اصلاح سے ہٹ جاتی ہے ۔نتیجتاًانسان تنہا رہ جاتا ہے اور نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔
کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں ہر قسم کے شر سے بچاو کے لئے بطورِعلاج مسنون اذکار اور دعائیں پڑھیں۔ (دعائیںآخری صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں
حضرت ابوہررہ روایت کرتے ہں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لاَ عَد وَی وَ لَا طِیَرَةَ وَ لَا ھَامَّةَ وَلَا صَفَرَوَفِرَّمِنَ المَجذُومِ کَمَا (تَفِرُّمِنَ الاَسَدِ (صحیح بخاری
مرض کا لگ جانا ،نحوست ،اُلو اورصفر کچھہ نہیں اورجذامی سے اس طرح بچو جس طرح شر سے بچتے ہو۔


عمومی مشاہدہ بھی یہی ہے کہ کسی کو بماری لگتی ہے اورکسی کو نہں لگتی ،اگراصل سبب کوئی انسان یا چیز ہوتی تو پھر سب کو بیماری لگنی چاہیے تھی ۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک اللہ کا اذن نہ ہو کوئی شخص نفع یا نقصان پہنچاسکتا ہے نہ ہی کوئی جراثیم یا وبا
 ۔پہلے مریض کوبیماری جہاں سے آئی تھی یعنی اللہ کے اذن سے، باقی لوگوں کو بھی وہیں سے آئے گی البتہ انسان احتیاط کا دامن نہ چھوڑے کیونکہ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی اللہ ہی نے دیا ہے البتہ بھروسہ اور توکل صرف اللہ کی ذات پر ہو۔

اسی طرح اُلو سے بدشگونی لینے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ عربو ں کے ہاں اُلوایک ایساپرندہ تھا جس کابولنا نحوست کی علامت تھی جب کہ مغرب میں اُلو عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں بلی کا رونا یا بولنا منحوس سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح اہل یورپ تیرہ کے عدد کومنحوس سمجھتے ہیں۔ اسی توہم پرستی کے نتیجہ میںان کی بعض عمارتوںمیں تیرھویں منزل کوتیرہ کا نمبر نہیں دیا جاتا ،اس کے اثرات ہم پربھی ہیں خصوصاً صَفر کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھتے ہیں اس کے برعکس چین میں خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ عدد تیرہ کا ہی ہے مگر بعض اس کو نحوست اور بعض خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیںتودرست کیا ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ یہ جبت ہیں یعنی بے حقیقت باتیں اور توہمات۔
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا

(
لاَعَد وَی وَلاَ صَفَرَ وَلاَ غُولَ (صحیح مسلم
مرض کا لگ جانا ،صفر اور بھوت پریت کچھہ نہیں ہیں ۔

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(
 لَا عَد وَی وَلاَ ھَامَّةَ وَلاَ نَوئَ وَلاَ صَفَرَ (سنن ابی داود
کوئی بیماری متعدی نہیں،نہ اُلو کا نکلنا کچھہ ہے،نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے ۔

معلوم ہوا کہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کو ستاروںکے اثرات سمجھنا یا ان سے نحوست لینے کی کوئی حقیقت نہیں۔ زائچے نکلوانا ، بعض تاریخوں کومنحوس سمجھنایہ سب وہمی اور خیالی باتیں ہیں ۔

حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی یہ واقعہ بارش کے بعد کا ہے جو رات کو ہوئی تھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”کیا تم جانتے ہو تمہارے ربّ نے کیا کہا ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ کچھہ مجھہ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھہ میرے ساتھہ کفر کرنے والے تھے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی پس وہ مجھہ پر ایمان لانے والا اور ستاروں کا کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی پس وہ میرے ساتھہ کفر کرنے والا ہے ا ور ستار وں پر ایمان لانے (والا ہے“ ۔   (صحیح بخاری


گویا ستاروں کو اپنی خوش قسمتی یا بد قسمتی کی علامت سمجھنا انسان کو کفر تک پہنچا سکتاہے ۔ البتہ اچھی چیزوں کو اپنے لئے خوش بختی کی علامت سمجھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَاعَد وَی وَلاَطِیَرَةَ وَیُعجِبُنِیَ الفَالُ الصَّالِحُ الکَلِمَةُ الحَسَنَةُ
 کوئی مرض متعدی نہیں اور نہ بدفالی کوئی چیزہے اور نیک (فال یعنی اچھا کلمہ مجھے پسند ہے (صحیح بخاری

مثلاً رسول اﷲ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے نمائندے سہیل بن عمروکے آنے پر فرمایاتھا : ”اب تمھارا معاملہ سہل(آسان) ہو گیا“۔

(صحیح بخاری)

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے واضح احکامات کے باوجود ہمارے معاشرے میں یہ بدشگونیاں عام کیوں ہیںتو اس کی ایک وجہ درج ذیل موضوع روایت کا لوگوںمیں عام ہونا ہے ۔
 مَن  بَشَّرَنِی  بِخُرُو جِ الصَّفَرِ بَشَّر تَہُ جَنَّة
جو شخص مجھہ کو ماہ ِ صفر گزرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا۔

یہ حدےث نہیںبلکہ ایک من گھڑت بات ہے۔چنانچہ اس مہینے میں شادی کرنے سے گریزکرنا ، بچے کا عقیقہ نہ کرنا یا دیگر تقریبات نہ منانا اسلامی طرز ِ عمل نہیں ، اسی طرح تیرہ تارےخ کوگھنگنیاں کھانے یا کھلانے کی بھی کوئی سند نہیں ۔تین سو پینسٹھہ آٹے کی گولیاں تالابوں میں پھینکنے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔
ماہِ صفرکے حوالے سے ایک اور انتہا یہ ہے کہ ایک طرف اس کو منحوس سمجھتے ہےں اور دوسری طرف خوشی منائی جاتی ہے اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے بعد اس دن صحت یاب ہوئے تھے اورسیروتفریح کے لئے نکلے تھے حالانکہ تاریخی اعتبار سے بات اس کے بالکل برعکس ہے ۔

فَبَدَاَبِِرَسُو لِ اللّٰہ ِوَجعَہُ الَّذِی  قَبضَہُ اللّٰہُ فِیہِ (معجم الکبیر للطبرانی)”پس رسول اللہ کی اس بیماری کی ابتدا ہوئی جس میں اللہ تعا لیٰ نے آپ کی روح قبض کی۔

اس من گھڑت بات کو بنیاد بنا کر اس مہینے کی آخری بدھ کوچھٹی کی جاتی ہے، کاروبار بند کر دئےے جاتے ہیں خصوصاً ہاتھہ سے کام کرنے والے کاریگر اور مزدور لوگ چھٹی مناتے ہیں اور مٹھائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ باقاعدہ مٹھائی بانٹی جاتی ہے اور اس دن چھٹی دینا باعث ِ اجرو ثواب سمجھا جاتا ہے۔ خاص اس دن اس سوچ کے ساتھہ چُوری بنائی جاتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت یاب ہونے کے بعد چُوری کھائی تھی ۔خواتین اس دن اچھے کپڑے پہنتی ہیں ،لوگ خاص طور پرتفریح کے لئے نکلتے ہیں جبکہ اس کی دلیل نہ تو سیرت کی کتابوںمیں ہے، نہ احادیث ِمبارکہ سے ملتی ہے ۔

اس لحاظ سے ایک مسلمان کا عقیدہ مضبوط اورذہن واضح ہونا چاہئے کہ خوشی اور غم،نفع اور نقصان سب اللہ تعالی کے ہاتھہ میں ہے ،کوئی تکلیف نہیں آسکتی جب تک اللہ نہ چاہے ۔ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُل  لََّن  یُصِبَنَآاِلاَّمَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ھُوَ مَولٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلیتَوَکَّلِ المُومِنُونَ (التوبة :51)”کہہ دیجئے کہ ہمیں ہر گز کوئی بھلائی یا برائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھہ دی ، وہی ہمارا مولا ہے او ر ایمان والوں کو اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
:

 مَآاَصَابَکَ لَم  یَکُن  لِیخطِئَکَ وَمَا اخطَاَکَ لَم  یَکُن لِیُصِیبَکَ (سنن ابی داود)

”جو مصیبت تم کو پہنچی وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو ٹل گئی وہ تم پر آہی نہیں سکتی تھی “۔

 یہی سوچ انسان کوہر حال میں مطمئن رکھتی ہے کہ جو ہوا اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوا اور اس میںضرور اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس طرح عقیدہ توحید مزیدپختہ ہوتا ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ اصل پناہ دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے۔اس طرح وہ شرک جیسے کبیرہ گناہ سے بچا رہتا ہے۔ اسیپر کاربند رہنے کے لئے ہمیںیہ دعاسکھائی گئی جوفرض نماز کے بعد پڑھنا مسنون ہے ۔

اَللّٰھُمَّ لاَمَانِعَ لِمَا اَعطَیتَ وَلاَمُعطِیَ لِمَا مَنَعتَ وَلاَ یَنفَعُ ذَا الجَدِّمِنکَ الجَدِّ (صحیح مسلم)” اے اللہ ! کوئی روک نہےںسکتا جو آپ عطاکرےں اور کوئی دے نہیںسکتاجس کوآپ روکنا چاہیں اور آپ کے عذاب کے مقابلے میں کسی دولت مند کو اسکی دولت فائدہ نہیں دے سکتی۔“


نظر بد اور تکلیف سے بچنے کی دعائیں



اَعُو ذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّةِ مِن  کُلِّ شَیطَانٍ وَھَامَّةٍ وَمِن  کُلِّ عَین لَامَّة ٍ (صحیح بخاری)”میں ہر شیطان اورموذی اور نظر بد سے اللہ کے تمام کلمات کی پناہ چاہتا ہو ں۔

ا َعُو ذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّةِ مِن  غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّعِبَادِہِ وَمِن ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَن  یَّحضُرُو نِ۔ (سنن ابوداود)”میں اللہ کے تمام کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کے غضب اور اس کے عتاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطان کے وسوسوںسے اور اس سے کہ وہ میرے پاس حاضرہوں۔

 بِسمِ اللّٰہِ اَر قِیکَ مِن  کُلِّ شَیئٍ یُّو ذِیکََ مِن  شَرِّ کُلِّ نَفسٍ اَو عَینٍ حَاسِدٍ اَللّٰہُ یَشفِیکَ بِسمِ اللّٰہِ اَر قِیکَ (صحیح مسلم
میں اللہ کے نام سے آپ کوجھاڑتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے،ہر نفس اور ہر حاسد نظر کے شر سے اللہ آپ کو شفا دے،میں اللہ کے نام سے آپ کو جھاڑتاہوں۔‘

اَذھِبِ البَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشفِ اَنتَ الشَّافِی  لاَ شِفَآءُ اِلاَّ شِفَاوُکَ شِفَآءَ لاَّیُغَادِرُسَقَمًا (صحیح مسلم)”اے لوگوں کے رب !تکلیف دور کر دے اور شفا دے ،تو ہی شفا دینے والا ہے،تیری دی ہوئی شفا کے سوا کوئی شفا نہیں،ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔


ا َعُو ذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ الَّتِی  لاََ یُجَاوِزُھُنَّ بَرّ ، وَّ لَافَاجِر مِن  شَرِّمَا یَنزِلُُ مِنَ السَّمَآِ وَمَایَعرُجُ فِیھَا،وَمِن شَرِّمَاذََرَا َفِی  الاَرضِ وَمَایَخرُجُ مِنھَا، وَمِن  شَرِّفِتَنِ اللَّیلِ وَ فِتَن َالنَّھَارِ، وَمِن  شَرِّ طَوَارِقِ اللَّیلِ وَالنَّھَارِاِلاَّطَارِقًایَطرُق ُبِخَیرٍ یَارَحمٰنُ (معجم الکبیر للطبرانی

میں اللہ تعالی کے ان تمام کلمات کے ساتھہ پناہ چاہتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک اور نہ ہی کوئی فاجر بڑھ سکتا ہے۔ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی یا ا س میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے پیدا ہوتی ہے اور جو اس سے باہر نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں اور حادثات کے شر سے، البتہ جو حادثہ بہتری کا سبب ہو، اے رحم کرنے والے۔

 

 

BACK